گووندا کا کم بیک: خود فریبی، ماضی کا سحر یا اپنی ہی "انا" میں پھنسا ہیرو نمبر 1؟
90ء کی دہائی کے "او جی کامیڈی کنگ" گووندا نے ایک بار پھر اپنی ذاتی پروڈکشن کے تحت بننے والی فلم "روپا" سے بڑے پردے پر واپسی کا اعلان کیا ہے۔ یہ خبر جہاں ان کے پرانے مداحوں کے لیے یادوں کا دریچہ کھولتی ہے، وہیں فلمی دنیا پر گہری نظر رکھنے والوں کے ذہن میں میر تقی میر کا یہ مصرعہ بے اختیار گونج اٹھتا ہے:
"مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے"
اصل سوال یہ نہیں کہ گووندا دوبارہ آرہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس دور کے ناظرین کے لیے آرہے ہیں؟
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گووندا اب بھی اس دور کی کامیابیوں کے سحر سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکے، جب صرف ان کا نام ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ مگر گزشتہ تین دہائیوں میں بالی ووڈ کے ناظرین، کہانی سنانے کا انداز اور مارکیٹ، سب بدل چکے ہیں۔ 1995 کا کامیاب فارمولا 2026 میں اسی صورت میں کام کرے، اس کی توقع کرنا بے وقوفی سی لگتی ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ لوگ کہتے رہے کہ وہ اب فلموں میں نہیں آ سکے گا، لیکن میں نے کئی بار ایسا کر کے دکھایا، یقیناً ان کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن یہی اعتماد بعض اوقات حقیقت کا درست اندازہ لگانے میں رکاوٹ بھی بن جاتا ہے۔
عظیم فنکار صرف اپنی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ خود کو نئے سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال امیتابھ بچن ہیں، جنہوں نے عمر کے مختلف مراحل میں اپنے کردار بدل کر اپنی فنی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے برعکس گووندا نے زیادہ تر واپسیوں میں خود کو مرکزی ہیرو ہی کے طور پر پیش کرنے کو ترجیح دی، حالانکہ عمر کے مطابق مضبوط اور باوقار کردار شاید ان کی صلاحیتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں سامنے لا سکتے تھے۔
اپنی ہی فلمیں خود پروڈیوس کرنا کوئی غلط بات نہیں؛ بھارتی سینما میں اس کی کئی کامیاب مثالیں موجود ہیں۔ لیکن جب یہ فیصلہ صرف اس لیے محسوس ہونے لگے کہ مرکزی کردار حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ رہ گیا ہے، تو سوال ضرور اٹھتے ہیں۔ "روپا" بھی اسی کسوٹی پر پرکھی جائے گی کہ آیا اس کے پیچھے واقعی ایک مضبوط کہانی ہے، یا صرف ماضی کی مقبولیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی خواہش۔
گووندا کا کم بیک کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا، مگر اس تحریر کے بہانے شاید میرا اپنا بھی "کم بیک" فلم والے میں ہو جائے۔
ایسا نہیں تھا کہ لکھنے کو کچھ نہیں تھا، یا وقت نہیں ملتا تھا۔ مسئلہ بس ایک عجیب سی کیفیت کا تھا، جو گزشتہ چند ماہ سے طاری رہی۔ تبصرہ لکھنا تو دور، پڑھنے کا بھی دل نہیں چاہتا تھا، حتیٰ کہ کئی بار فیس بک کھولنے کا بھی جی نہیں کرتا تھا۔
امید ہے یہ خاموشی اب ٹوٹے گی۔ اور مجھ سے کہیں بہتر لکھنے والے وہ تمام دوست، جو کبھی فلم والے گروپس کی رونق ہوا کرتے تھے، دوبارہ قلم اٹھائیں گے تاکہ محفلیں پھر سے آباد ہو سکیں۔
مزید پڑھیں:
