فلمی موسیقی کی دنیا میں سمن کلیان پور ایک ایسی گلوکارہ رہی ہیں، جن کی سب سے بڑی خوبی ہی ان کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن گئی۔ ان کی آواز کا رنگ، مٹھاس اور لہجہ لتا منگیشکر سے اس قدر مشابہ تھا کہ عام سامعین تو دور، گیتوں کے بڑے بڑے پارکھ بھی برسوں تک دھوکا کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ 1980 کی دہائی میں جب دور درشن پر ان کا گایا ہوا ایک گیت نشر ہوا، تو سمن کلیان پور کی بیٹی 'چارول' کو فون کر کے بتانا پڑا کہ یہ آواز لتا جی کی نہیں بلکہ ان کی والدہ کی ہے۔
سمن کلیان پور کا سفر تقسیمِ ہند سے پہلے کے ڈھاکہ میں ایک روایتی کونکنی (سارسوت برہمن) گھرانے میں شروع ہوا، جس کے بعد ان کا خاندان بمبئی منتقل ہو گیا۔ محض 16 برس کی عمر میں، مشہور گلوکار طلعت محمود نے ایک تقریب میں ان کی آواز سن کر انہیں سراہا اور ریکارڈنگ کمپنی سے متعارف کروایا۔ سمن کو فلم 'دروازہ' (1954) میں طلعت محمود کے ساتھ ہی اپنا پہلا فلمی گیت گانے کا موقع ملا۔
لتا سے ملتی جلتی آواز سمن کلیان پور کے لیے سزا بھی ثابت ہوئی اور انعام بھی۔ سزا اس لیے کہ وہ لتا یا آشا کی طرح اپنی الگ پہچان قائم کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرتی رہیں اور ان کے گائے کئی گیت لتا جی کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ لیکن انعام اس طور پر ہوا کہ 1960 کی دہائی میں جب لتا منگیشکر اور محمد رفیع کے درمیان رائلٹی کے معاملے پر اختلاف چل رہا تھا، تو موسیقیاروں نے لتا کے بہترین متبادل کے طور پر سمن کلیان پور کا انتخاب کیا اور انہوں نے رفیع صاحب کے ساتھ کئی لازوال گیت ریکارڈ کروائے۔ بالی ووڈ کی اس بے رحم دنیا میں، وہ سو سے زیادہ فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگانے میں کامیاب رہیں۔
سمن کلیان پور کے حقیقی اور مشہور گیت:
نا نا کرتے پیار تم ہی سے کر بیٹھے ہیں (فلم: جب جب پھول کھلے، 1965)
ایک دل، دو ہیں طلبگار (فلم: دروازہ، 1954 - طلعت محمود کے ساتھ)
چھوڑو چھوڑو موری بیاں (فلم: میاں بیوی راضی، 1960)
انٹرنیٹ ریکارڈز کے مطابق سمن کلیان پور کے دیگر مقبول گیت:
آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے (فلم: برہمچاری، 1968 - محمد رفیع کے ساتھ)
ٹھہرئیے ہوش میں آ لوں (فلم: محبت اس کو کہتے ہیں، 1965 - رفیع کے ساتھ)
تجھے دیکھا تجھے چاہا تجھے پوجا میں نے (فلم: چھوٹی سی ملاقات، 1967 - رفیع کے ساتھ)
تم پودے ہو ہم پھول ہیں (فلم: شبنم، 1964 - رفیع کے ساتھ)
تجھے پیار کرتے ہیں کرتے رہیں گے (فلم: اپریل فول، 1964 - رفیع کے ساتھ)
(اس تحریر کے زیادہ تر حصے انڈپینڈنٹ اردو کے مستند آرٹیکل سے ماخوذ ہیں اور چند بنیادی حقائق کی درستگی انٹرنیٹ آرکائیوز کے مطابق کی گئی ہے)
فلمی موسیقی کے لفظ اور آواز
گلوکاری کے اس سفر کے ساتھ گلزار کی نغمہ نگاری اور شاعری پر تحریر بھی پڑھیے؛ یہ فلمی گیت کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنے کا موقع ہے۔
