گلزار: شاعری، نغمہ نگاری اور سنیما کا ہمہ جہت فنکار

گلزار کا عینک پہنے پورٹریٹ، سفید بال اور داڑھی کے ساتھ۔

پیشِ خدمت ہے وہ فنکار جس نے اپنی شاعری سے خاموشی کو زبان دی اور عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی لافانی استعاروں میں بدل دیا۔ آج ہم ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت پر بات کر رہے ہیں جو نغمہ نگاری، ہدایت کاری اور کہانی نویسی کے افق پر پچھلے چھ عشروں سے جگمگا رہی ہے۔ یہ شخصیت سمپورن سنگھ کالرا ہیں، جنہیں دنیا 'گلزار' کے نام سے جانتی ہے اور جن کے قلم کی خوشبو سرحدوں کی قید سے آزاد ہے۔

گلزار صاحب 18 اگست 1934 کو پاکستان کے ضلع جہلم کے قصبے 'دینا' میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کا زخم اور اپنے آبائی گھر سے بچھڑنے کا دکھ ان کی شخصیت اور فن میں ہمیشہ ایک بنیادی رنگ کے طور پر موجود رہا۔ ممبئی کے ابتدائی دنوں میں انہوں نے ایک موٹر گیراج میں مکینک کے طور پر کام کیا، لیکن ان کے اندر کا شاعر انہیں عظیم فلم ساز بمل رائے کے در تک لے گیا۔ ان کے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز فلم 'بندنی' (1963) کے اس لازوال گیت "مورا گورا انگ لئی لے" سے ہوا، جس نے راتوں رات انہیں صفِ اول کے نغمہ نگاروں میں شامل کر دیا۔

ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ تب آیا جب انہوں نے قلم کے ساتھ ساتھ کیمرے کی زبان کو بھی سمجھا اور ہدایت کاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ 'اجازت'، 'آندھی'، 'موسم'، 'کوشش' اور 'ماچس' جیسی فلمیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ گلزار صرف لفظوں کے جادوگر نہیں بلکہ انسانی نفسیات کے گہرے پارکھ بھی ہیں۔ فلم 'اجازت' کا گیت "میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے" آج بھی ٹوٹے ہوئے رشتوں کی بہترین ترجمانی مانا جاتا ہے۔

گلزار صاحب کے فن کی انفرادیت ان کی وہ اچھوتی تشبیہات ہیں جو پہلے کبھی اردو شاعری کا حصہ نہیں تھیں۔ 'گیلی لکڑی کا دھواں'، 'شاخوں پہ دھوپ کا بیٹھنا' اور 'آنکھوں کو موند کے دیکھنا' جیسے استعارے صرف گلزار ہی تخلیق کر سکتے تھے۔ ان کی اسی تخلیقی صلاحیت نے انہیں نہ صرف بھارت کے اعلیٰ ترین اعزازات 'پدما بھوشن' اور 'دادا صاحب پھالکے ایوارڈ' تک پہنچایا، بلکہ فلم 'سلم ڈاگ ملینیئر' کے گیت "جے ہو" کے لیے عالمی سطح پر اکیڈمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

ان کی نجی زندگی کا ایک حساس پہلو نامور اداکارہ راکھی کے ساتھ ان کی شادی اور پھر علیحدگی تھا۔ اگرچہ یہ رشتہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا، لیکن اس جدائی کے کرب نے گلزار کی شاعری میں اداسی اور تنہائی کو ایک نیا وقار بخشا۔ انہوں نے اپنی بیٹی میگھنا گلزار کی پرورش ایک دوست کی طرح کی اور آج وہ خود ایک کامیاب فلم ساز ہیں۔ گلزار صاحب نے اردو شاعری میں "تروینی" کے نام سے تین مصرعوں کی ایک نئی صنف بھی متعارف کروائی، جو ان کے اختراعی ذہن کا ثبوت ہے۔

آج نوے برس کی عمر میں بھی گلزار صاحب کا قلم تھکا نہیں ہے۔ ان کے لہجے کی دھیمی چاشنی اور سفید لباس ان کی شخصیت کا ٹریڈ مارک بن چکے ہیں۔ وہ آج بھی اپنے مداحوں کے لیے اسی طرح معتبر ہیں جیسے عشروں پہلے تھے۔ ان کا سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ سچا فنکار وقت کی دھول میں نہیں کھوتا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی چمک میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

(اس تحریر کی تیاری میں گلزار صاحب کے سوانحی ریکارڈز، ان کے شعری مجموعوں کے دیباچے اور مستند فلمی آرکائیوز سے مدد لی گئی ہے)

 

فلمی موسیقی پر مزید تحریریں

نغمہ نگاری کے بعد آواز کے رنگ بھی دیکھیے: کویتا کرشنا مورتی کی آواز اور نصرت فتح علی خان کے گانوں پر تحریر، اور سمن کلیان پور کے فنی سفر کا جائزہ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

ads