کیا آپ جانتے ہیں کہ کویتا کرشنا مورتی ہی کیوں؟
نصرت فتح علی خان صاحب کے گانے جب بالی وڈ کے لیے نئے سانچے میں ڈھلنے لگے تو ایک مسئلہ صرف دھن یا بول کا نہیں تھا، آواز کا بھی تھا۔
نصرت صاحب کی آواز میں ایک غیر معمولی weight تھا۔ اس کا نچلا اور درمیانی رجسٹر بھرپور، گونج دار اور طاقتور محسوس ہوتا تھا، جبکہ اسی آواز میں وہ حیران کن صلاحیت بھی موجود تھی جس سے وہ اچانک بلند سروں اور پیچیدہ vocal phrases تک پہنچ جاتے تھے۔
اب ایسی آواز کو بالی وڈ کے ڈانس ٹریک میں منتقل کیجیے۔
یہاں موسیقی کی ساخت عموماً زیادہ گھنی اور بھاری ہو جاتی ہے۔ ڈھولک، پرکشن، الیکٹرانک ڈرمز، بیس اور سنتھسائزرز ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ ایسے مکسچر میں صرف خوبصورت یا باریک آواز کافی نہیں ہوتی۔ گلوکار کی آواز میں اتنی presence اور projection بھی چاہیے کہ وہ instrumental wall کے پیچھے چھپ نہ جائے۔
اور یہیں کویتا کرشنا مورتی دلچسپ انتخاب بن جاتی ہیں۔
کویتا جی کی آواز کا کمال
اس کا timbre ہے، یعنی آواز کا وہ مخصوص رنگ جس کی وجہ سے دو گلوکار ایک ہی سُر گائیں تو بھی دونوں الگ محسوس ہوں۔ ان کی آواز میں brightness اور edge کے ساتھ ایک خاص vocal weight بھی ہے۔ یہی combination انہیں dense arrangements میں نمایاں رکھتا ہے۔
اس کی ایک شاندار مثال "تو چیز بڑی ہے مست مست" ہے۔ یہ گانا خاں صاحب کی دم مست قلندر مست مست سے متاثر تھا، اور موسیقار ویجو شاہ نے بالآخر کویتا کرشنا مورتی کو اس کے لیے منتخب کیا۔
کویتا جی کی ایک اور خاصیت ان کا register transition ہے۔ خود انہوں نے وضاحت کی ہے کہ بہت بلند سروں پر آواز head voice میں جا سکتی ہے اور اصل مہارت chest سے head voice کی منتقلی کو اتنا smooth رکھنا ہے کہ سننے والے کو کوئی کھنچاؤ / تناؤ محسوس نہ ہو۔
یعنی ان کے پاس صرف "اونچی آواز" نہیں تھی، ان کے پاس آواز کو مختلف registers میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی تھی۔
اسی لیے شاید یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ بالی وڈ کو نصرت صاحب کی آواز کی نقل کرنے کے لیے کسی دوسرے "نصرت" کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایک ایسی آواز چاہیے تھی جس میں خاں صاحب کے vocal character کی نقل تو نہ ہو، مگر ان کے گانے کی طاقتور melodic architecture ایک نئے انداز میں زندہ رہ سکے۔
اور کویتا کرشنا مورتی کی آواز میں وہ وزن، edge، projection اور register control موجود تھا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ خاں صاحب کے ان بالی وڈ گانوں میں کویتا جی کی آواز محض ایک playback voice نہیں لگتی بلکہ وہ arrangement کا حصہ بن کر بھی arrangement سے الگ سنائی دیتی ہے۔
(اس تحقیقاتی مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ پر موجود مواد سے مدد لی گئی ہے)
آواز سے لفظ تک
فلمی گیت صرف آواز نہیں، لفظ کا بھی سفر ہیں۔ اسی دلچسپی کو آگے بڑھانے کے لیے گلزار کی شاعری، نغمہ نگاری اور سنیما پر تحریر پڑھیے۔
