"کچھ لوگ محض اداکار نہیں ہوتے، وہ سکرین پر چلتا پھرتا ایک احساس ہوتے ہیں۔ سنجے مشرا بھی ایک ایسی ہی درویش منش شخصیت ہیں جن کی زندگی کو دیکھنے کا زاویہ انہیں باقی اداکاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ایک پوڈکاسٹ میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ خوش ہیں؟ تو ان کا جواب کسی فلسفی جیسا تھا۔ انہوں نے کہا، "خوشی کا پیمانہ بڑا الگ ہے، کوئی بھی مکمل خوش نہیں ہوتا۔ پندرہ سال کی عمر میں پاپا جی کے ساتھ دیوالی پر پینٹ کی بجائے بیل-باٹم سلوانے کی ضد کرنا۔ اب نہ وہ دن رہے، نہ پاپا جی، لیکن بیل باٹم ہے تو یہ بھی ایک طرح کی خوشی ہے۔" انہوں نے پچیس پیسے والی کوکا کولا کی بوتل کا ذکر جس سادگی سے کیا کہ چار بہن بھائی ایک چوَنیّ میں بوتل خریدتے اور آخری گھونٹ پینے والا خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا، یہ سن کر دل بھر آتا ہے۔ شاید یہی فرق ہے زندگی گزارنے اور زندگی جینے میں۔ کچھ لوگ یادوں کو صرف یاد کرتے ہیں، اور کچھ لوگ انہیں ایسے جیتے ہیں جیسے وہ آج بھی کہیں آس پاس سانس لے رہی ہوں۔ سنجے مشرا اسی دوسری قسم کے آدمی ہیں جو ماضی کو صرف نوستالجیا نہیں بلکہ شکر گزاری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اس کلپ کو بار بار سنتے ہوئے میں ان کے چہرے پر پھیلا وہ عجیب سا سکون دیکھ رہا تھا جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو مادی چیزوں سے بلند ہو چکے ہوں۔ انکی شخصیت پر اس مختصر تحریر کا اختتام اس شعر کے ساتھ، ”درویش طبیعت مجھے ورثے میں ملی ہے میں ٹھیک، غلط، اچھا، بُرا کچھ نہیں کہتا “
اسی موضوع پر مزید پڑھیں
زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے والی کہانیاں پسند ہیں تو خودشناسی کے سفر پر پانچ فلموں کی فہرست بھی دیکھیے۔
فنکار کی شخصیت اور اس کے احساس کی بات آگے بڑھاتے ہوئے گلزار کی شاعری اور سنیما پر تحریر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
