تیری بانہوں میں جو گزری۔۔۔۔بھیگی راااات صنم
آئیے آج آپکو اس سلسلے کی چوتھی شخصیت نمرتا شروڈکر سے ملواتے ہیں۔
سنہ انیس سو ترانوے میں 'مس انڈیا' کا تاج اپنے سر سجانے والی نمرتا شروڈکر اسی سال 'مس یونیورس ' کی پہلی چھ حسیناؤں میں سے بھی ایک تھیں۔
ان کی دادی میناکشی شروڈکر اپنے دور کی معروف اداکارہ تھی اور بڑی بہن شلپا شروڈکر پہلے ہی فلمی دنیا کا ایک بڑا نام بن چکی تھیں
لیکن نمرتا نے ماڈلنگ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بہت کم وقت میں بالی ووڈ میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔
ان کا فلمی سفر 1998 میں فلم 'جب پیار کسی سے ہوتا ہے' کے ایک مختصر مگر یادگار کردار سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے سلمان خان کے مدمقابل اپنی معصومیت سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ لیکن ان کے کیریئر کو اصل اڑان سنجے دت کے ساتھ فلم 'واستو' سے ملی۔ اس فلم میں ان کی سنجیدہ اور جاندار اداکاری نے نقادوں کو یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ وہ محض ایک خوبصورت چہرہ نہیں بلکہ ایک منجھی ہوئی اداکارہ ہیں۔ اس کے بعد 'کچے دھاگے' اور 'پکار' جیسی فلموں نے ان کے قدم بالی ووڈ میں مزید مضبوط کر دیے۔ نمرتا شروڈکر کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے کمرشل فلموں کے ساتھ ساتھ ہٹ کر بننے والے پروجیکٹس میں بھی دلچسپی لی، جس کی سب سے بڑی مثال گورندر چڈھا کی بین الاقوامی فلم 'برائیڈ اینڈ پریجوڈیس' تھی، جس میں ان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
نمرتا کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ سن 2000 میں اس وقت آیا جب وہ ایک تیلگو فلم 'ومسی' کی شوٹنگ کے لیے سیٹ پر پہنچیں۔ وہاں ان کی ملاقات ساؤتھ کے ابھرتے ہوئے سپر اسٹار مہیش بابو سے ہوئی، اور یہی ملاقات ان کی زندگی کا وہ باب ثابت ہوئی جس نے ان کی ترجیحات بدل دیں۔ پانچ سال کی گہری دوستی اور محبت کے بعد 2005 میں یہ جوڑی رشتہ ازدواج میں بندھ گئی۔ نمرتا نے اپنے عروج کے وقت میں ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا اور اپنی کامیاب فلمی زندگی کو خیرباد کہہ کر خود کو اپنے خاندان اور شوہر کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ممبئی کی چکا چوند سے نکل کر حیدرآباد منتقل ہو گئیں اور ایک ایسی شریک حیات کے طور پر سامنے آئیں جس نے خاموشی سے اپنے شوہر کے سپر اسٹار بننے کے سفر میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔
آج نمرتا شروڈکر صرف ایک سابق اداکارہ یا سپر اسٹار مہیش بابو کی اہلیہ نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کے پروڈکشن ہاؤس اور وسیع و عریض بزنس ایمپائر کو انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے سنبھال رہی ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو انتہائی متاثر کن ہے کہ انہوں نے کبھی بھی فلمی دنیا سے دوری کا افسوس نہیں کیا بلکہ ایک مضبوط بزنس وومن اور ایک بہترین ماں کے طور پر اپنی نئی زندگی کو بھرپور طریقے سے اپنایا۔ وہ آج بھی عوامی تقریبات میں اپنی وہی پرانی سادگی اور وقار کے ساتھ نظر آتی ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ اصل کامیابی شہرت کے پیچھے بھاگنا نہیں بلکہ اپنی خوشی اور ترجیحات کے مطابق جینا ہے۔
