شیبا اکاشدیپ صابر (Sheeba Akashdeep Sabir) – نوے کی دہائی کا معصوم چہرہ

شیبا اکاشدیپ صابر کے پوسٹر میں رنگین لباس پہنے وہ ایک کرسی پر بیٹھی ہیں۔

نوّے کی دہائی کے بالی ووڈ سینما میں جہاں گلیمر اور ایکشن کا راج تھا، وہاں کچھ چہرے اپنی معصومیت اور فطری اداکاری کی بدولت شائقین کے دلوں میں گھر کر گئے۔ ان میں ایک نمایاں نام شیبا اگروال کا ہے، جنہیں آج دنیا شیبا اکاشدیپ صابر کے نام سے جانتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں بلکہ ان کا فلمی سفر علاقائی سینما سے لے کر بالی ووڈ کی بلندیوں تک پھیلا ہوا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شیبا نے اپنے کیریئر کا آغاز ہندی فلموں سے کیا، لیکن حقیقت میں ان کا پہلا کام تامل سینما کے سپر اسٹار رجنی کانت کے ساتھ تھا۔ 1990 میں ریلیز ہونے والی فلم "اتھیسیا پراوی" (Athisaya Piravi) ان کی ڈیبیو فلم تھی، جو کہ رشی کپور کی فلم 'نصیب اپنا اپنا' کا ری میک تھی۔ ایک نووارد اداکارہ کے لیے رجنی کانت جیسے قد آور اسٹار کے ساتھ کام کرنا کسی اعزاز سے کم نہ تھا اور اسی فلم نے ان کے لیے بالی ووڈ کے دروازے کھول دیے۔

شیبا کی صلاحیتوں کو سینئر اداکار سنیل دت نے پہچانا اور 1991 میں انہیں فلم 'یہ آگ کب بجھے گی' کے ذریعے ہندی سینما میں متعارف کروایا۔ تاہم، انہیں ملک گیر شہرت 1992 میں سلمان خان کے ساتھ فلم 'سوریا ونشی' سے ملی۔ اس فلم میں ان کی اور سلمان خان کی جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا، اور فلم کے گیتوں نے ان کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے۔

ان کی دیگر قابلِ ذکر فلموں میں 'ہم ہیں کمال کے'، 'مس کٹورا' اور 'پیار کا روگ' شامل ہیں، جہاں انہوں نے اپنی ورسٹائل اداکاری کا لوہا منوایا۔

شیبا نے اپنی زندگی کا نیا سفر معروف فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اکاشدیپ صابر کے ساتھ شروع کیا۔ شادی کے بعد انہوں نے اپنا خاندانی نام 'اگروال' تبدیل کر کے 'اکاشدیپ صابر' کر لیا۔ اکاشدیپ صابر خود بھی انڈسٹری کا ایک معتبر نام ہیں، جنہوں نے 'کرشمہ کا کرشمہ' جیسے مقبول شوز اور کئی فلمیں پروڈیوس کی ہیں۔

ایک طویل وقفے کے بعد، شیبا نے ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنی اداکاری کا جادو جگایا۔ وہ سونی ٹی وی کے تھرلر ڈرامے 'حاصل' اور کلرز ٹی وی کے مشہور شو 'ناگن 6' میں اہم کرداروں میں نظر آئیں۔

آج کل شیبا اپنی فٹنس اور یوگا کی وجہ سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہیں۔ 50 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود وہ اپنی صحت اور خوبصورتی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور لاکھوں خواتین کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

ads