پیش خدمت ہیں مراٹھی سنیما کی ملکہ جس نے ہندی سینما میں بھی اپنی دھاک بٹھائی۔ آج ہم اس سلسلے کی پانچویں اداکارہ پر بات کر رہے ہیں۔
نوے کی دہائی کے فلمی افق پر جب گلیمر اور کمرشل فلموں کا غلبہ تھا، تب مراٹھی سنیما سے ایک ایسی فنکارہ بالی ووڈ میں داخل ہوئی جس نے اپنی سحر انگیز آنکھوں سے شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہ شخصیت ورشا اسگاؤنکر ہیں، جنہیں مراٹھی فلموں کی "سری دیوی" اور "ونڈر گرل" بھی کہا جاتا ہے۔
گوا کے ایک سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی ورشا کے والد، اچیوت کاسیناتھ اسگاؤنکر، گوا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے، جبکہ ان کی والدہ مانیکابائی اسگاؤنکر ایک ماہر کلاسیکی گلوکارہ تھیں۔ یوں فن اور وقار دونوں ورشا کو گھر سے ہی ورثے میں ملے۔ مگر انہوں نے سیاست کی بجائے فن کی دنیا کو اپنی منزل قرار دیا اور اپنے سفر کا آغاز تھیٹر اور مراٹھی فلموں سے کیا، جہاں وہ بہت جلد ایک ایسی سپراسٹار بن گئیں جن کے نام پر فلمیں بکا کرتی تھیں۔
ان کی زندگی کا ایک انتہائی دلچسپ موڑ تب آیا جب وہ اپنے گھروالوں کے ہمراہ محض تماشائی کے طور پر مہابھارت کے سیٹ پر گئیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی روز ابھیمنیو کی کہانی کے لیے اُترا کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کی تلاش جاری تھی۔ گفی پینٹل، جو شکنی ماما کا کردار نبھا رہے تھے، نے ورشا کو دیکھتے ہی فوری طور پر یہ کردار پیش کر دیا ، بغیر کسی آڈیشن کے۔ بی آر چوپڑا کے اس شاہکار ڈرامے میں گوپی کرشنا کی کوریوگرافی میں ان کے کتھک رقص کے ایک ہی منظر نے انہیں راتوں رات قومی سطح پر پہچان دلا دی اور ہندی فلم انڈسٹری کے دروازے ان پر کھل گئے۔
اسی شہرت کی لہر پر سوار ہو کر ورشا اسگاؤنکر نے 1990 میں "دودھ کا قرض" سے بالی ووڈ میں قدم رکھا، جس میں انہوں نے جیکی شروف کے ساتھ "کاجری" کا یادگار کردار نبھایا۔ اس کے بعد "ہنی مون"، "تیرنگا" اور "گھر آیا میرا پردیسی" جیسی فلموں نے انہیں گھر گھر پہچان دلائی۔ مراٹھی فلموں میں بھی "گمت جمت"، "ہمال دے دھمال" اور "ایک ہوتا ودوشک" جیسی فلموں میں ان کی اداکاری نے انہیں تین مہاراشٹر اسٹیٹ فلم ایوارڈز دلوائے ۔ یہ اعزاز اس بات کی گواہی ہے کہ وہ محض ایک گلیمرس چہرہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فنکارہ تھیں۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ اور کسی حد تک متنازع پہلو ان کا وہ مشہورِ زمانہ فوٹو شوٹ تھا جو انہوں نے نوے کی دہائی کے وسط میں ایک انگریزی میگزین کے لیے کروایا۔ اس پر کافی تنقید بھی ہوئی، لیکن ورشا نے بڑی ہمت اور وقار کے ساتھ اپنا موقف رکھا کہ فنکار کو کسی ایک مخصوص سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ بے باکی اور اعتماد تھا جس نے انہیں اپنے دور کی دیگر اداکاراؤں سے ممتاز رکھا۔
ورشا ایک کٹر سبزی خور ہونے کے ناطے شوٹنگ کے دوران بھی اپنے کھانے پینے کے معاملات میں بہت محتاط رہتی تھیں۔ سنہ 2000 میں نامور موسیقار روی شنکر شرما کے بیٹے اجے شرما سے رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد بھی انہوں نے اداکاری سے ناطہ نہیں توڑا اور 2024 میں بگ باس مراٹھی 5 میں بھی شرکت کی۔ آج بھی جب وہ اسکرین پر نظر آتی ہیں، تو ان کے لہجے کی شستگی اور وقار برقرار ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حقیقی فنکار وقت کی گرد سے دھندلا نہیں ہوتا۔
(اس آرٹیکل کی تیاری میں وکی پیڈیا اور چند اور خبری ذرائع سے معلومات اکٹھی کی گئی ہیں)
