🎞️ I SAW THE TV GLOW 2024
🎬 ہارر / ڈرامہ / نفسیاتی تھرلر
🎥 A24
کہیں ہم اپنے سمارٹ فونز سکرین کے "پنک اوپیک" میں تو نہیں جی رہے؟
2024 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم کہانی ہے ایسے کردار کی جو اپنی اصل شناخت، ماضی کی یادوں اور نفسیاتی خوف جیسی کئی جنگوں سے ایک ہی وقت میں نبرد آزما ہے.
اوون ایک شرمیلا اور الجھا ہوا لڑکا ہے. ساتویں جماعت کا اوون الیکشن نائٹ پر نوہویں جماعت کی میڈی سے ملتا ہے جو "پنک اوپیک نامی ٹی وی شو کی ایپیسوڈ گائیڈ پڑھ رہی ہوتی ہے. اوون اس شو کے کمرشل دیکھ چکا ہے اور اسے یہ بے حد پسند آئے لیکن اس کے والدین نے اس کے سونے کا ٹائم نو بجے سیٹ کر رکھا ہے اور شو کا ٹائم ہے دس بجے. باتوں باتوں میں میڈی اسے SLEEP OVER کا اشارہ دیتی ہے اور اوون اپنے والدین سے کسی دوسرے دوست کے گھر رات رکنے کا بتا کر میڈی کے گھر یہ شو دیکھنے چلا جاتا ہے.
یہ شو دراصل دو خاتون کرداروں کی کہانی بیان کرتا ہے جو ایک ولن مسٹر میلینکولی سے لڑتے ہیں جو ہر قسط میں کوئی نیا ولن بھیجتا رہتا ہے. کچھ وقت گزرتا ہے اور شو ٹی وی پر آنا بند ہو جاتا ہے. میڈی بھی اس دن کہیں غائب ہو جاتی ہے.
ان واقعات سے الجھا ہوا لڑکا مزید الجھ جاتا ہے. حقیقت اور تصور کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے. سڑکیں اب عجیب رنگوں سے جگمگانے لگتی ہیں۔ یہ رنگ حقیقت نہیں، مگر اوون کے لیے اِس لمحے میں سچے ہیں۔
سالوں بعد میڈی لوٹتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ دونوں اب ٹی وی شو کی خیالی دنیا میں پھنس چکے ہیں۔ یہ بات اوون کو اپنی شناخت اور حقیقت کے تضاد پر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے. مگر اوون سب کچھ پہلے سے ہی جاننے کے باوجود حقیقت سے انکاری ہوتا ہے. وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میڈی کی طرح اپنی حقیقت کو تسلیم نہ کر لے، اور اسی سوچ سے وہ میڈی کو دھکا دے کر گرا دیتا ہے اور یہ کہہ کر کہ
"تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے
زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی"
وہاں سے بھاگ کر گھر آ جاتا ہے اور پھر کئی دنوں تک باہر نہیں نکلتا.
ایک ایسی فلم جہاں خوف کا عنصر صرف مونسٹرز نہیں بلکہ اندر کے شیطان ہیں۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمیں اپنی شناخت، وقت کے بہاؤ، حقیقت اور فینٹسی پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
آپکو کیا لگتا ہے کہ کوئی اپنی بنائی ہوئی حقیقت میں قید ہو سکتا ہے؟
سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنا رہ سکتا ہے؟
ساری زندگی یہ جنگ لڑ سکتا ہے؟
کیا چچا غالب کی طرح،
سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنا رہ سکتا ہے؟
ساری زندگی یہ جنگ لڑ سکتا ہے؟
کیا چچا غالب کی طرح،
"ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے"
والی صورت حال میں جیتے رہنا ہی ٹھیک ہے؟
کیونکہ میرا ایک میڈی جیسا دوست کہتا تھا کہ حقیقت کو دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں حوصلہ چاہیے.
مزید پڑھیں:
فینٹسی اور پراسرار کردار
اگر حقیقت کے پیچھے چھپی ایک اور دنیا کا خیال دلچسپ لگا تو GRIMM سیریز کا اردو ریویو بھی دیکھیے۔ وہاں یہی دلچسپی پولیس کی تفتیش اور لوک کہانیوں کے انداز میں سامنے آتی ہے۔
